م حبتِ علیؑ کا ثواب













رحمةٌ اللعالمین سرکار دوجہاں ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفٰیؐ فرماتے ہیں:

1جنت
آگاہ رہو!
جس نے علیؑ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی تو اللہ تعالٰی اس سے راضی ہوا اور جس سے اللہ تعالٰی راضی ہو گا تو اسے بدلے میں جنت دیگا۔

2 نماز، روزہ اور دعا کی قبولیت
آگاہ رہو!
جو بھی علیؑ سے محبت کریگا،
تو اسکی نماز ، روزے اور اسکی شب زندہ داری قبول کی جاٸیگی اور اسکی دعا قبول ہو گی۔

جنت کے 8 دروازے
آگاہ رہو!
جو بھی علیؑ سے محبت کریگا،
اس کیلٸے فرشتے استغفار کرینگے اور اس کیلٸے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیٸے جاٸینگے اور وہ جس دروازے سے چاہے گا بغیر حساب اس میں داخل ہو جاٸے گا۔

3سکراتِ موت کی تلخی
آگاہ رہو!
جو بھی علیؑ سے محبت کریگا،
اللہ تعالٰی اس پر سکراتِ موت کی تلخیوں کو آسان کر دیگا اور اسکی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے گا۔

5جنت کی حوریں اور شہر
آگاہ رہو!
جو بھی علیؑ سے محبت کریگا،
اسکے بدن پر جتنے بھی بال ہونگے اللہ تعالٰی اس کو اتنی ہی حوریں عطا فرمائے گا اور اتنی ہی مقدار میں اسے جنت کے شہر عطا کریگا۔

6جناب حمزہؑ کاہمنشین
آگاہ رہو!
جو بھی علیؑ سے محبت کریگا،
اللہ تعالٰی اسکی طرف ملک الموت کو ایسے ہی بھیجے گا جیسا کہ وہ انبیاء علیہم السلام کی طرف بھیجتا رہا ہے اور اس سے منکر و نکیر کی دہشت کو ختم کر دیگا اور اسکے چہرے کو نورانی کریگا اور وہ سید الشہداء جناب حمزہ علیہ السلام کا ہم نشین ہو گا۔

7تمام گناہ معاف
آگاہ رہو!
جو بھی علیؑ سے محبت کریگا،
اسے عرش کے نیچے سے ایک فرشتہ ندا دیکر کہے گا:
اے بندہ خدا!
نٸے سرے سے عمل کر کیونکہ اللہ تعالٰی نے تیرے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں۔

8 حساب کے بغیر جنت
آگاہ رہو!
جو بھی علیؑ سے محبت کریگا،
اس کیلٸے دوزخ سے آزادی کا پروانہ لکھا جاٸیگا اور پُلِ صراط سے گزرنے کی راہداری لکھی جاٸیگی اور دوزخ سے محفوظ رہنے کیلٸے امان نامہ تحریر کیا جاٸے گا اور اس کے نامہ اعمال کو کھولا نہیں جاٸیگا اور اسکے اعمال کا وزن نہیں کیا جاٸیگا اور اس سے کہا جاٸیگا کہ تو حساب کے بغیر جنت میں چلا جا۔

9تمام حاجات پوری ہوں
آگاہ رہو!
جو بھی علیؑ سے محبت کریگا،
تو ملاٸکہ اس سے مصافحہ کرینگے اور انبیاء علیہم السلام اسکی زیارت کرینگے اور اللہ تعالٰی اسکی تمام حاجات پوری کریگا۔

10رحمت کے دروازے
آگاہ رہو!
جو بھی علیؑ سے محبت کریگا،
اللہ تعالٰی اسکے دل میں حکمت کو جگہ دے گا اور اسکی زبان پر سچائی کو جاری کریگا اور اس کیلٸے رحمت کے دروازے کھول دیگا۔

 قارٸینِ محترم!
ان احادیث کی حقیقت پر کوٸی شک نہیں۔ مگر وہ محبت کیا ہے جسکے کرنے پر اتنے بڑے بڑے انعامات کا وعدہ کیا گیا۔
آسان ترین لفظوں میں وہ یہ کہ ہم مولاٸے متقیان امام علی علیہ السلام کے کردار کی پیروی کریں اور آپ علیہ السلام کے فرامین پر عمل کریں۔ بس یہی محبت ہے۔ 
دوسرے لفظوں میں امام علی علیہ السلام کی پیروی لفظ ”شیعہ“ میں پنہاں ہے اور امام علی علیہ السلام کی پیروی کا لازمہ ”امام علی علیہ السلام کی شناخت ہے اور امام علی علیہ السلام کی شناخت کا لازمہ امام علی علیہ السلام سے محبت ہے۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو محبت اہلبیت علیہم السلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفيق عطا فرمائے۔
آمین۔

 بحوالہ: فضاٸل الشیعہ۔