تین_قسم_کے_گناہ
حضرت امام علی علیہ السلام مسجد کوفہ میں منبر پر تشریف لے جاتے ہیں، خدا کی حمد و ثنا بجا لاتے ہیں، اس کے بعد ف
حضرت امام علی علیہ السلام مسجد کوفہ میں منبر پر تشریف لے جاتے ہیں، خدا کی حمد و ثنا بجا رماتے ہیں:
أَيُّهَا اَلنَّاسُ إِنَّ اَلذُّنُوبَ ثَلاَثَةٌ
اے لوگو! گناہ تین طرح کے ہیں:
فَذَنْبٌ مَغْفُورٌ وَ ذَنْبٌ غَيْرُ مَغْفُورٍ وَ ذَنْبٌ نَرْجُو لِصَاحِبِهِ وَ نَخَافُ عَلَيْهِ
1 ایسے گناہ جو بخش دیئے گئے ہیں۔
2 ایسے گناہ جنکی بخشش نہیں ہوئی۔
3- ایسے گناہ جس کے مرتکب ہونے والے کے لئے بخشش کی امید بھی رکھتے ہیں اور نہ بخشے جانے کا خوف بھی ہے۔
حبّہ عرنی عرض کرتے ہیں:
یا امیر المومنین! ان کی وضاحت فرمادیجئے۔
فرماتے ہیں:
جو گناہ بخش دیئے گئے ہیں:
وہ ایسے گناہ ہیں جس پر خدا نے اسی دنیا میں سزا دے دی ہے، لہذا خدا اس سے کہیں زیادہ حلیم و کریم ہے کہ اپنے بندے کو دوبار سزا دے۔
جو گناہ بخشے نہیں گئے:
وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے، خدا نے قسم کھا رکھی ہے اور فرمایا ہے: قسم ہے میرے عزّ وجلال کی کہ کسی بھی ظالم کا ظلم بغیر سزا کے مجھ سے گذر نہیں سکتا، خواہ وہ ظلم مشت سے مشت کا لڑانا یا (ہوا و ہوس کی خاطر) ہاتھ کا ہاتھ سے مس کرنا ہو یا بے شاخ اور نہتھے پر سینگوں والے کا حملہ ہو، خدا بندوں کے لئے ایک دوسرے سے قصاص لے گا یہاں تک کہ کوئی بھی ستم بغیر سزا کے باقی نہ بچے، اس کے بعد قیامت کے دن حساب و کتاب کے لئے اٹھائے گا۔
لیکن تیسرے قسم کا گناہ:
ایسا گناہ ہے جس کو خدا نے بندوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھا اور معصیت کار کے لئے توبہ کی توفیق دی تو معصیت کرنے والا اپنے گناہوں پر خوفزدہ بھی ہے اور اپنے ربّ سے امیدوار بھی، ہم بھی اس کی نسبت وہی حال رکھتے ہیں جیسا کہ وہ رکھتا ہے کہ اس کے لئے رحمت کی امید بھی ہے اور عذاب کا خوف بھی۔
الكافي (ط - الإسلامية)، ج2، ص443، باب في أن الذنوب ثلاثة
0 تبصرے