نماز کی اہمیت و فضیلت







عقائد ایمانی کے بعد اعمالِ بدنی میں نماز سے زیادہ کوٸی چیز افضل نہیں ہے۔ نماز اعمال انسانی میں سب سے بہتر عمل ہے اسکے معنی یہ نہیں ہیں کہ بس سب سے بہتر عمل کے بعد اب کسی عمل کی ضرورت نہیں۔
اللہ تعالی نے ہر عملِ انسانی کی سعادت کے اضافے کیلٸے موقع بہ موقع نافع ترین اصول وضع فرماٸے ہیں۔
ہر شے اپنی اپنی جگہ پر ضروری ہے مگر منفعت میں درجات ہیں۔
  اللہ تعالی قرآن مجید سورہ مدثر میں ارشاد فرماتا ہے:
جنتی دوزخیوں سے باہم پوچھ رہے ہونگے کہ آخر تمہیں دوزخ میں کونسی چیز لے آٸی؟ وہ لوگ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھا کرتے تھے

1   واصلِ جہنم
جناب رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
کہ روزِ قیامت سب سے پہلے جس چیز کا سوال کیا جاٸیگا وہ نماز ہے۔
اگر نماز بجا لایا ہے تو نجات ہو گی ورنہ اس کو واصلِ جہنم کر دیا جاٸیگا۔

2   *نماز کو تمام امور پر ترجیح*
امام کاٸنات مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
جناب رسول اعظمﷺ نہ تو رات کے کھانے کو اور نہ ہی کسی دوسری چیز کو نماز پر ترجيح دیتے تھے، جب نماز کا وقت ہو جاتا تو آپ ﷺ کی کیفیت یہ ہو جاتی گویا آپ ﷺ نہ تو اپنے کسی رشتہ دار کو پہنچانتے تھے اور نہ ہی کسی دل سوز دوست کو۔
نماز کو تمام امور پر ترجيح دیتے تھے۔

3   *نماز میں خضوع و خشوع*
پیغمبر اسلامﷺ سے پوچھا گیا کہ خشوع کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
نماز میں تواضع و انکساری اور یہ کہ بندہ اپنے پورے دل کے ساتھ اپنے رب کی طرف توجہ کرے۔

4 نماز کے آداب
ایک صحابی نے مولا امام السید الساجدین علیہ السلام سے پوچھا کہ آدابِ نماز کیا ہیں؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:

  تمہاری پوری توجہ دل کے ساتھ نماز کی طرف ہونی چاہیے۔
   دل کو حاضر رکھنا۔
  اسکے حدود کو قاٸم رکھنا۔
   اعضاوجوارح کو دوسرے کاموں سے باز رکھنا۔
   اللہ تعالی کے سامنے ذلت کے ساتھ کھڑے ہونا۔
   جنت کو اپنے داٸیں جاننا۔
   جہنم کو اپنی باٸیں طرف جاننا۔
   پل صراط کو اپنے سامنے رکھنا۔
   اللہ تعالی کی ذات حاضر و ناظر جاننا۔
  مستی اور اونگھ میں نماز نہ پڑھنا۔

5   اول وقت میں نماز ادا کرو

   مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اول وقت کو آخر وقت پر وہی فضیلت حاصل ہے جو آخرت کو دنیا پر حاصل ہے۔

  مولا امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اول وقت ہمیشہ افضل ہوتا ہے۔
لہذا جتنا ہو سکے بھلاٸی کیلٸے جلدی کرو۔
اللہ تعالی کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ ہے جسکو بندہ پابندی سے ادا کرتا ہے خواہ وہ کم ہی ہو۔

6  سب سے بڑا چور
جناب رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں:
چوروں کا سرغنہ وہ شخص ہے جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے یعنی اسے مکمل طورپر ادا نہیں کرتا۔

7  نمازی کیلٸے 3 خوبیاں
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
نمازی کو 3 خوبیاں حاصل ہوتی ہیں:

  جب نماز کیلٸے کھڑا ہوتا ہے تو اسکے سر پر آسمان سے نیکیاں نچھاور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

   پاٶں سے لے کر آسمان تک اس کو فرشتے گھیر لیتے ہیں۔

   اور اسے ایک فرشتہ ندا دیتا ہے:
اے نمازی! اگر تجھے معلوم ہو جاٸے کہ تیری اس مناجات کے کس قدر فوائد اور اجروثواب ہیں تو تو کبھی مصلہ عبادت سے نہ اترے۔

8   وہ جنکی نمازقبول نہیں ہوتی
رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں:
کہ جن نمازیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی وہ یہ ہیں:

   جو والدین سے ناراض ہو ان پر ظلم کرے اللہ تعالی اسکی نماز قبول نہیں کرتا۔

   جب تک شوہر بیوی سے ناراض رہتا ہے تو بیوی کی نماز قبول نہیں ہوتی۔

   زکوۃ کو روک لینے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی۔

 جو شخص پیشاب یا پاخانہ روک کر نماز پڑھے اسکی نماز قبول نہیں ہوتی۔

   جو لڑکی سمجھدار ہو اور وہ بےغیر چادر نماز پڑھے اسکی نماز قبول نہیں ہوتی۔

بحوالہ۔
زاد راہ مبلغین۔
راہ ہدایت۔
روح الحیات۔