حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا:
*إِنَّ اللَّهَ يَبْتَلِي عِبَادَهُ عِنْدَ الْأَعْمَالِ السَّيِّئَةِ بِنَقْصِ الثَّمَرَاتِ وَ حَبْسِ الْبَرَكَاتِ وَ إِغْلَاقِ خَزَائِنِ الْخَيْرَاتِ، لِيَتُوبَ تَائِبٌ وَ يُقْلِعَ مُقْلِعٌ وَ يَتَذَكَّرَ مُتَذَكِّرٌ وَ يَزْدَجِرَ مُزْدَجِرٌ، وَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ الِاسْتِغْفَارَ سَبَباً لِدُرُورِ الرِّزْقِ وَ رَحْمَةِ الْخَلْقِ، فَقَالَ سُبْحَانَهُ «اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً يُرْسِلِ السَّماءَ عَلَيْكُمْ مِدْراراً وَ يُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وَ بَنِينَ وَ يَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَ يَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهاراً»؛ فَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأً اسْتَقْبَلَ تَوْبَتَهُ وَ اسْتَقَالَ خَطِيئَتَهُ وَ بَادَرَ مَنِيَّتَهُ*
یقینا اللہ بد اعمالیوں کے موقع پر اپنے بندوں کو ان مصائب میں مبتلا کر دیتا ہے کہ پھل کم ہو جاتے ہیں ۔برکتیں رک جاتی ہیں ۔خیرات کے خزانوں کے منہ بند ہو جاتے ہیں تا کہ توبہ کرنے والے توبہ کر لیں اور باز آنے والے باز آجائیں ۔نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کر لیں اور گناہوں سے رکنے والا رک جائے ۔پروردگار نے استغفار کو رزق کے نزول اور مخلوقات پر رحمت کے ورود کا ذریعہ قرار دے دیا ہے۔
اس کا ارشاد گرامی ہے کہ :《 *اپنے رب سے استغفار کرو کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔وہ استغفار کے نتیجہ میں تم پر موسلا دھار بارش برسائے گا - تمہاری اموال اور اولاد کے ذریعہ مدد کرے گا ۔تمہارے لئے باغات اور نہریں قرار دے گا*》
اللہ اس بندہ پر رحم کرے جو توبہ کی طرف متوجہ ھو جائے،خطاؤں سے معافی مانگے اور موت سے پہلے نیک اعمال انجام دے۔
📚خطبہ نمبر 143
(ترجمہ نھج البلاغہ قبلہ ذیشان جوادی صاحب )
التماس دعا
سھیل حیدر
0 تبصرے